ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پہلے سے جیل میں بند نوجوانوں پر رام نومی تشدد کا الزام

پہلے سے جیل میں بند نوجوانوں پر رام نومی تشدد کا الزام

Sat, 16 Apr 2022 12:29:29    S.O. News Service

بھوپال، 16؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی)  بلڈوزرکے ذریعے اندھیر گردی مچانے والی مدھیہ پردیش حکومت نے    جبر کا ایک اور کارنامہ انجام دیا ہے۔ اس نے حال ہی میں رام نومی کے موقع پر ہوئے فساد کا الزام 3ایسے نوجوانوں کے سر ڈال دیا ہے جو گزشتہ کئی دنوں پہلے ہی سے جیل میں بند ہیں ۔ اور اس الزام میں ان تینوں ملزمین کے گھر بھی منہدم کر دیئے۔  

این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق  گزشتہ 10 اپریل کو مدھیہ پردیش کے بروانی پولیس اسٹیشن میں موٹر سائیکلوں کو آگ لگانے کے جرم میں جن ۳؍ لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے ان کی شناخت، شہباز، فخرو اور  رئوف کے طور پر ہوئی ہے۔  جبکہ یہ تینوں ایک ماہ قبل یعنی ۱۱؍ مارچ سے جیل میں بند ہیں۔ ان کے اوپر دفعہ 307 یعنی قتل کی کوشش کا معاملہ درج ہے۔ حیرانی یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ   حیرت کی انتہا یہ ہے کہ جس پولیس اسٹیشن میں ان تینوں کے خلاف قتل کی کوشش کا معاملہ درج ہے اسی پولیس اسٹیشن میں رام نومی کے وقت موٹرسائیکلوں کو جلانے کا  معاملہ بھی درج کیا گیا ہے۔  

بروانی ضلع کے ایس پی نے 11 مارچ کو ایک پریس کانفرنس بلائی تھی اور بتایا تھا کہ سکندر علی نامی شخص پر فائرنگ کے الزام میں شہباز، فخرو اور رئوف کو گرفتار کیا گیا ہے۔  ان تینوں پر قتل کی کوشش کا  معاملہ درج کرکے جیل بھیج دیا گیا تھا  تب سے یہ لوگ اندر ہی ہیں۔ بروانی پولیس کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے کہ  پہلےہی سے جیل میں بند یہ تینوں ملزمین کیسے آگ زنی اور توڑ پھوڑ کر سکتے ہیں؟  سیندھوا کے ایس ڈی او پی نے یہ ضرور کہا کہ ’’ ہم معاملے کی جانچ کریں گے۔ جیل حکام سے بات کرکے ان ملزمین کا ریکارڈ منگوائیں  گے۔ ‘‘ انہوں نے صفائی دی کہ ’’ ابھی جو معاملہ درج کیا گیا ہے وہ فریادیوں کے الزام  کے مطابق درج کیا گیا ہے۔ ‘‘ 

  ادھر ان تینوں کے اہل خانہ جتنے پریشان ہیں اس سے زیادہ حیران ہیں کہ ان کے بیٹوں کو آخر جیل سے باہر کون لایا تھا جو انہوں نے یہ جرم کیا۔ اور اگر وہ اندر ہی ہیں تو ان کے خلاف یہ معاملہ کیسے درج کیا گیا؟ شہباز کی ماں سکینہ نے روتے ہوئے کہا ’’میرا بیٹا ڈیڑھ مہینے سے جیل میں ہے۔ اسے پولیس آپسی لڑائی جھگڑے میں لے گئی تھی۔‘‘  انہوں نے بتایا ’’ یہاں پولیس آئی اور ہمیں گھر سے باہر کر دیا ۔ کہنے لگی کہ آپ کا گھر توڑنا ہے۔ہمارا سامان بھی تہس نہس کر دیا۔‘‘ سکینہ کہتی ہیں’ ’میرے بچے کا کہیں سے کچھ (رول) تھا ہی نہیں،  وہ تو جیل میں تھا، پولیس سے پوچھنا چاہئے کہ اس پر کیوں  ایف آئی آر درج کی گئی؟‘‘  سکینہ پوچھتی ہیں ’’ اسے جیل سے باہر کس نے بھیجا؟ میں پولیس سے جاننا چاہتی ہوں کہ اس کا نام کیسے آیا جبکہ وہ اندر تھا اور اگر باہر آیا تو کیسے آیا؟‘‘   سکینہ نے بتایا  ’’ ہم نے ہاتھ جوڑے، معافی مانگی، لیکن انہوں نے ہماری ایک نہیں سنی۔ میرے چھوٹے بیٹے کا نام نہیں تھا لیکن اسے بھی وہ لوگ اٹھا کر لے گئے۔‘‘     رپورٹ کے مطابق شہباز عادی مجرم ہے اس کے اوپر مہاراشٹر کے اکولہ میں قتل کا معاملہ درج ہے جبکہ مدھیہ پردیش کے سیندھوا میں 5 دیگر معاملے ہیں۔ اسی طرح  فخرو کے خلاف 2 اور رئوف کے خلاف 4معاملے درج ہیں۔  لیکن ریکارڈ سے یہ بات ثابت ہے کہ بروان میں جب تشدد کے واقعات ہو رہے تھے تو یہ تینوں جیل میں تھے۔ اس لحاظ سے کیسے ان کے خلاف معاملہ درج ہوا اور کیوں ان کے مکانات گرائے گئے اس سوال کا جواب معلوم کرنا ضروری ہے۔   


Share: